اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) نے فضائی دفاعی نظام پیٹریاٹ اور تھاڈ (THAAD) کے انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافے کے لیے نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد ان میزائلوں کے ذخائر میں کمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور خطے میں نئی فوجی پیش رفت کے امکانات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے "آرسنل آف فریڈم" (Arsenal of Freedom) کے نام سے منصوبے کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام امریکی وزارت دفاع، لاک ہیڈ مارٹن اور نارتھروپ گرومن کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداواری صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کیا جا سکے۔
پینٹاگون نے بھی اعلان کیا ہے کہ لاک ہیڈ مارٹن اور نارتھروپ گرومن کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے ہیں جن کا مقصد تھاڈ اور پیٹریاٹ PAC-3 دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے میزائلوں کی تیاری کی صلاحیت کو وسعت دینا ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق، طویل المدتی سپلائی چین کی ضمانتوں کے ذریعے پیٹریاٹ PAC-3 انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار تین گنا، جبکہ تھاڈ نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار چار گنا تک بڑھائی جائے گی۔
لاک ہیڈ مارٹن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی امریکی وزارت دفاع اور نارتھروپ گرومن کے اشتراک سے موجودہ عملیاتی ضروریات کے مطابق انٹرسیپٹر میزائلوں کی تیاری کی رفتار اور حجم میں اضافہ کر رہی ہے، جسے "آرسنل آف فریڈم" کا نام دیا گیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں کمی کے باعث ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں توسیع کے منصوبے کو مؤخر کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ قومی سلامتی مشیروں کے اجلاس میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی گئیں تو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کے دفاع کے لیے درکار انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ